آیت اللہ ڈاکٹر سید نیاز محمد ہمدانی دور حاضر کے ایک ممتاز مذہبی محقق ہیں جو دین اور انسانی معاشرے کے بارے میں ایک منفرد سوچ رکھتے ہیں۔ان کا نکتہ نظر یہ ہے کہ دین کا بنیادی فریضہ انسان اور انسانی معاشرے کو قرب الٰہی کی منزل کی راہ دکھانااورمعاشرے میں سماجی عدل قائم کرکے فرد اور معاشرے کی تکالیف اور دکھوں کا خاتمہ کر کے ایک فلاحی معاشرہ تشکیل دینا ہے۔اگر کوئی دین ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو ایسے دین کو دین کہنا درست نہیں ہے اور نہ ہی کسی عقلمند انسان کو ایسے دین سے کوئی سرو کار رکھنا چاہیے۔
ڈاکٹر نیاز ہمدانی کے نزدیک دین اسلام واحد دین ہے جومکمل طور پر اس معیار پر پورا اترتا ہے۔لیکن علما نے دین اور معاشرتی مسائل کے بارے میں تحقیق کی راہ اپنانے کی بجائے گزشتہ علما کی اندھی تقلید کی روش اپنا کر اور عوام کو اپنی اندھی تقلید پر لگا کر اسلام کو اس کی حقیقی روح سے بیگانہ کردیا ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اسلام چند رسمی عبادات کا ایک مجموعہ بن کر رہ گیا ہے۔ڈاکٹر نیاز ہمدانی کے مطابق مسلمانوں کی معاشرتی ،معاشی اور سیاسی پسماندگی کا خاتمہ کر نے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے مسلمانوں کو فکری اور علمی جمود سے نجات دلائی جائے جس کا واحد راستہ یہ ہے گزشتہ علما کی اندھی تقلید کو ترک کر کے دور حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ عام تعلیم یافتہ طبقہ بھی علما کی اندھی تقلید پرقناعت کرنے کی بجائے قرآن مجید میں تفکر و تدبر کی روش اختیار کرے۔
ڈاکٹر نیاز ہمدانی 2جولائی 1959 کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد سید عالم شاہ مرحوم ، جواسلامیہ ہائی سکول میں مدرس تھے، ایک محقق اور صاحب بصیرت انسان تھے۔ ڈاکٹر نیاز ہمدانی نے ابتدائی تعلیم اور دینی تربیت اپنے والد محترم سے ہی حاصل کی۔ 1973میں جب ان کے والد ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو وہ بھی اپنے والد کے ہمراہ اپنے آبائی علاقے، ضلع چکوال کی تحصیل تلہ گنگ میں آگئے اور اپنے والد کی نگرانی میں تعلیم و تربیت کے مراحل مکمل کئے۔
معاشیات میں ایم اے تک تعلیم 1983 میں آیت اللہ ڈاکٹر نیاز ہمدانی ایران چلے گئے جہاں 1990تک حوزہ علمیہ قم میں دینی تعلیم کے حصول میں مصروف رہےاور اپنے استاد محترم آیت اللہ ڈاکٹر محمد صادقی تہرانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے سند اجتہاد حاص کی۔
حو زہ علمیہ قم میں قیام کے دوران انہوں نے قرآن،حدیث اور فقہ کے علاوہ اسلامی فلسفہ ، اسلامی معاشیات اوررومی،غزالی اور فارابی کے نظریات کی بنیاد پر اسلامی نفسیات کا بھی تحقیقی مطالعہ کیا ۔ وہ متعدد کتب کے مترجم اور مولف ہیں اور اخبارات و رسائل کیلئے بھی مضامین لکھتے ہیں ۔
ڈاکٹر نیا ز ہمدانی 20سے زائد کتب کے مؤلف اور مترجم ہیں۔ ان کی تالیف میں تفسیر سورہ حمد، تفسیر سورہ یاسین، تفسیر سورہ توحید، مسئلہ شہادت ثالثہ اور تحقیق مسائل تقلید قابل ذکر ہیں۔ ان کے قلمی کاموں میں سب سے اہم ترجمہ و تفسیر قرآن کریم ہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ یہ تفسیر ان شاء اللہ عنقریب 5یا 6جلدوں میں شائع ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ وہ مائنڈ سائنس ، ریکی، ہپنا تھراپی، روحانی علاج اور روحانی تربیت کے شعبوں میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔
انہوں نے 2004 میں انٹر نیشنل یونیورسٹی آف آلٹر نیٹو میڈیسن سری لنکا سے
Healing -Through – Communication- with – DNA
کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھنے پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اس طرح ڈاکٹر نیاز ہمدانی دنیا بھر میں ان چند گنے چنے افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے اجتہاد اور ڈاکٹریٹ ،دونوں ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ 2006 میں اسی یونیورسٹی کی سالانہ عالمی کانگریس میں بھی انہوں نے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا جس کا موضوع تھا
Spirituality: The – Best – Alternative – Medicine.
اسی سال انہوں نے سری لنکا کے انٹرنیشنل بدھسٹ میڈی ٹیشن سنٹر سے
Buddhist – Meditation
کے انسٹرکٹر کا سر ٹیفکیٹ بھی حاصل کیا ۔
ڈاکٹر نیاز ہمدانی گزشتہ کئی سالوں سے انٹرنیشل یونیورسٹی آف آلٹر نیٹو میڈیسن کے فورم سے
Integrated – wisdom – for – global – peace – and – health
کے نظریے پر کام کررہے ہیں جس کا مقصد دنیا کے سب مذاہب کی حکیمانہ تعلیما ت کے اشتراک سے عالمی امن اور صحت کو فروغ دینا ہے۔