(ڈاکٹر سید نیازمحمد ہمدانی)
نوع انسانی کے افراد کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ایک وہ جو گمراہی و جہالت کی تاریکی میں بھٹک رہے ہوتے ہیں۔دوسرے وہ جو ہدایت کی نورانی شاہراہ پر چل رہے ہوتے ہیں اور تیسرے وہ جو گمراہی و جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتے ہوئے انسانوں کے لئے روشنی کا مینار ہوتے ہیں۔تیسری قسم کے افراد میں سے ایک نمایاں شخصیت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں جو 17ربیع الاول83ہجری کو رونق افروز بزم انسانیت ہوئے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام خانوادہ رسالت کے چشم وچراغ اور آئمہ اثنا عشر میں سے چھٹے امام ہیں۔ایک طرف سے آپ علم و فضل و تقویٰ و طہارت باطن میں یکتائے روزگار تھے تو دوسری طرف سے حسب و نسب کے لحاظ سے بھی انتہائی عالی مقام تھے۔آپ کے والد ماجد حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام اور آپ کے دادا حضرت امام زین العابدین علیہ السلام تھے جو حضرت امام حسین علیہ السلام کے فرزند اور حضرت علی علیہ السلام کے پوتے تھے۔آپ کی دادی فاطمہ بنت امام حسن علیہ السلام تھیں ۔اس طرح آپ کے دادا بھی حضرت علی کے پوتے اور آپ کی دادی بھی حضرت علی کی پوتی تھیں۔آپ کی والدہ ماجدہ حضرت ام فروہ تھیں۔آپ کے نانا قاسم بن محمد بن ابو بکر اور آپ کی نانی اسماء بنت عبد الرحمن ابن ابو بکر تھیں۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حضرت امام جعفر صادق کی ذات گرامی اتحاد بین المسلین کے حوالے سے ایک اہم مرکزکی حیثیت رکھتی ہے۔
آپ کے نسب کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کے دادا حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اور آپ کے نانا قاسم بن محمد آپس میں خالہ زاد اور ایرانی بادشاہ یزدگرد کے نواسے تھے۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عمر کے دور حکومت میں جب ایران فتح ہو ا تو جو کنیزیں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں ان میں ایرانی بادشاہ یزدگرد کی بیٹیاں شہر بانو اور شاہ بانو بھی تھیں۔حضرت عمر نے ان دونوں شہزادیوں کی قسمت کا فیصلہ حضرت علی علیہ السلام پر چھوڑ دیا۔حضرت علی علیہ السلام نے اس کافیصلہ اس طرح کیا کہ شہر بانو کا عقد اپنے بیٹے حضرت امام حسین علیہ السلام سے اور شاہ بانو کا عقد محمد ابن ابوبکر سے کردیا۔حضرت امام حسین علیہ السلام اور بی بی شہر بانو سے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام متولد ہوئے اور محمد ابن ابوبکر اور شاہ بانو سے قاسم بن محمد متولد ہوئے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حضرت امام جعفر صادق کی ذات گرامی فخر ِ عرب و عجم بھی ہے۔آپ کی والدہ حضرت ام فروہ صرف نسب کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ سیرت و کردار کے لحاظ سے بھی عظیم المرتبت خاتون تھیں۔علی بن مسعود نے اپنی کتاب اثبات الوصیہ میں لکھا ہے کہ حضرت ام فروہ اپنے دور کی تمام عورتوں سے زیادہ متقی خاتون تھیں۔شیخ عباس قمی اپنی کتاب منتہی الآمال میں لکھتے ہیں کہ حضرت ام فروہ کی بلندی سیرت و کردار کی وجہ سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کوابن المکرمہ بھی کہا جاتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشہور اور ممتاز صحابی عبداللہ ابن مسعود روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ’’ میرا ایک فرزند ہو گاجس کا نام جعفر اور لقب صادق ہوگا،جس نے اس کی مخالفت کی اس نے میری مخالفت کی اور جس نے اس کی بات رد کی اس نے میری بات رد کی۔‘‘
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ساری زندگی علوم اسلامی کی نشرو اشاعت میں گزری۔آپ نے ہر شعبہ علم میں عظیم ماہرین کی تربیت کی۔علم کیمیا ء کے بانی جابر حیان،حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت امام مالک آپ کے شاگردوں میں سے تھے۔حضرت امام ابو حنیفہ نے صرف دو سال آپ سے کسب فیض کیا۔ان دو سالوں کے بارے میں وہ فرماتے ہیں: لو لا السنتان لہلک النعمان یعنی اگر یہ دو سال نہ ہو تے تو نعمان ہلاک ہو جاتا۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام مسلمان جوانوں کو علم حاصل کرنے کی بہت تاکید فرماتے تھے۔’’آپ فرماتے تھے کہ میں کسی مسلمان جوان کو ان دو حالتوں کے علاوہ کسی اور حالت میں دیکھنا پسند نہیں کرتا: یا تو وہ عالم ہو یا طالب علم۔‘‘مسلمان جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:’’ یا عالم بنو،یا طالب علم بنو یا پھر ان دونوں سے محبت رکھو۔خبر دار کوئی چوتھی چیز نہ بننا ورنہ ہلاکت تمہارا مقدر بن جائے گی۔‘‘ علم کے بارے میں آپ کا نقطئہ نظر یہ تھا کہ علم وہی حاصل کرنا چاہئے جو انسان کی دنیوی اور اخروی زندگی میں خیر و سعادت کا باعث ہو۔آپ کا ارشاد گرامی ہے کہ:’’ جس علم کا حاصل کرنا لوگوں پر فرض قرار دیا گیا ہے وہ چار چیزوں کا علم ہے: ایک یہ کہ تم اپنے رب کو پہچانو،دوم یہ کہ تم اپنے اوپر اپنے رب کے احسانات و انعامات کو پہچانو،سوم یہ کہ تم اس بات کا علم حاصل کرو کہ تمہارا رب تم سے کیا چاہتاہے اور چہارم یہ کہ تم کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ کیا چیز تمہیں تمہارے دین سے خارج کر دیتی ہے‘‘۔
ایک مرتبہ آپ اپنے کچھ احباب کے ساتھ کہیں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ مجمع لگا ہوا ہے اور ایک شخص تقریر کر رہا ہے۔آپ نے دریافت فرمایا: یہ کیا ہورہا ہے؟ کسی نے جواب میں کہا : یہ علامہ ہے ۔آپ نے پوچھا: کیسا علامہ؟جواب میںکہا گیا: یہ سب لوگوں سے بڑھ کی عربوں کے نسب،ان کی تاریخ اور جنگوں کے حالات سے باخبر ہے۔یہ سن کر آپ نے فرمایا: ’’ یہ ایسا علم ہے جس کے جاننے والوں کو اس کے جاننے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور اس کے نہ جاننے والوں کو نہ جاننے کا نقصان کوئی نہیں ہے۔علم تو بس کتاب اللہ، سنت رسول اور فرائض کا علم ہے۔‘‘ (الکافی)
کسب معاش کے سلسلے میں آپ محنت و مشقت کر نے کو بہت پسند فرماتے تھے۔الکافی میںابو عمرشیبانی سے روایت ہے کہ ایک بار آپ بیلچہ اپنے دست مبارک میں لئے اپنے باغ میں کام کر رہے تھے اور آپ کا بدن پسینے سے شرابور تھا۔میں آپ کے قریب گیا اور عرض کی : میں آپ پر قربان ہوجائوںیہ بیلچہ مجھے دیجئے تاکہ میں آپ کے لئے یہ خدمت انجام دے سکوں۔آپ نے فرمایا:’’ انسان کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنے کسب معاش کے لئے خود دھوپ کی شدت کو برداشت کرے۔‘‘
تجارت میں غیر منصفانہ منافع حاصل کرنا آپ کو سخت ناپسند تھا۔آپ کے ارادتمندوں میں سے ایک شخص ،جس کا نام مصادف تھا،تجارت سے وابستہ تھا۔ ایک مرتبہ آپ نے اسے ایک ہزار دینار دیئے تاکہ وہ اس رقم کو اپنی تجارت میں لگائے اور اس کے منافع میں آپ کو حصہ دار بنائے۔اس نے ایک ہزار دینار لئے اور چلا گیا۔کچھ عرصے کے بعد وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو ا تو اس کے ہاتھ میں ایک ایک ہزار دینار کی دو تھیلیا ں تھیں۔اس نے وہ دونوں تھیلیاں آپ کی خدمت میں پیش کیں اور کہا : فرزند رسول ! یہ ایک ہزار دینار آپ کا اصل سرمایہ ہے اور یہ ایک ہزار دینار آپ کا منافع ہے۔آپ نے حیرت سے پوچھا: ایک ہزار دینار پر ایک ہزار دینار منافع؟ تم نے یہ منافع کیسے حاصل کیا؟ مصادف نے جواب دیا کہ ہم اپنا مال ِ تجارت لے کر مصر گئے۔جب ہم مصر کے قریب پہنچے تو ہماری ملاقات ایک قافلے سے ہوئی جو مصر سے واپس آرہا تھا۔ہم نے اس سے مصر میں اپنے مال تجارت کی مارکیٹ کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو قافلے والوں نے بتایاکہ جو مال تم لے کر جارہے ہو مصر میں اس کی سخت قلت ہے اور اس کی قیمت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔یہ سن کر ہم نے آپس میں قسم کھائی کہ ایک دینار پر ایک دینار سے کم منافع نہیں لیں گے۔ اس طر ح ہم نے خوب منافع کمایا اور آپ کے ایک ہزار دینار پر بھی ایک ہزار دینار منافع حاصل کیا جو آپ کی خدمت میں پیش کردیا ہے۔یہ سن کر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: سبحان اللہ ! مسلمانوں کی بنیادی ضرورت کی چیز کی قلت تھی اور تم لوگوں نے قسم کھائی کہ ایک دینار کی چیز دو دینار سے کم پر نہ بیچوگے ! پھر آپ نے اپنے اصل سرمائے کے ایک ہزار دینار اٹھالئے اور ہزار دینار کی دوسری تھلی کے بارے میں فرمایا اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔پھرآپ نے فرمایا:’’ رزق حلال کمانا تلوار کے ذریعے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔‘‘
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے زندگی کے ہر شعبے سے متعلق گرانقدر علمی اور عملی رہنمائی فراہم کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو ان کی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔
٭ ٭ ٭
Leave A Comment